ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / بھاگوت کابیان ترقی پسند ہندو سماج کیلئے ناقابل قبول

بھاگوت کابیان ترقی پسند ہندو سماج کیلئے ناقابل قبول

Mon, 22 Aug 2016 19:13:11    S.O. News Service

آرایس ایس کے ہندو آبادی میں اضافہ والے بیان پر شیوسینا نے تنقیدکی،یکساں سول کوڈکاراگ الاپا 

ممبئی، 22؍اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)آرایس ایس سربراہ بھاگوت کی طرف سے ہندو آبادی میں کمی والے بیان کو دقیانوسی قراردیتے ہوئے آج شیوسینا نے کہا کہ ترقی پسند ہندو سماج ان کے خیالات کو قبول نہیں کرے گا۔اس کے ساتھ ہی شیوسینا نے مرکز سے کہا کہ وہ سماجی اور ثقافتی توازن برقرار رکھنے کے لیے یکساں سول کوڈ نافذ کرے۔طویل عرصے سے بی جے پی کی اتحادی رہی شیوسینا نے کہا کہ مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی سے نمٹنے کے لیے ہندوؤں کی آبادی کو بڑھانے پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے نریندر مودی حکومت کو جلد از جلد یکساں سول کوڈ نافذ کرنا چاہیے ۔شیوسینا نے پارٹی کے ترجمان اخبار ’سامنا‘کے اداریہ میں لکھا کہ موہن بھاگوت نے دقیانوسی خیالات کو نئے انداز سے پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ان کے بیان کو ترقی پسند ہندو سماج قبول نہیں کرے گا۔وزیر اعظم مودی بھی اس بات سے متفق نہیں ہوں گے کہ ہندو آبادی کو بڑھانا مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی سے نمٹنے کا صحیح طریقہ ہے۔اداریہ میں کہا گیاکہ حکومت خاندانی منصوبہ بندی پر بہت پیسے خرچ کر رہی ہے، مسلم آبادی میں اضافہ سے یقینی طور پر ملک کا سماجی اور ثقافتی توازن متاثر ہوگا لیکن ہندوؤں کو زیادہ بچے پیدا کرنے کے لیے کہنا اس مسئلے کا حل نہیں ہے۔شیوسینا نے کہاکہ سبھی کمیونٹیوں کی آبادی پر لگام لگانے کا واحد حل یکساں سول کوڈ کا نفا ذ ہے۔اگر ہندو زیادہ بچے پیدا کریں گے تو بھوک، بے روزگاری اور مہنگائی جیسے مسائل میں اضافہ ہی ہوگا۔شیو سینا نے بھاگوت سے جانناچاہا کہ کیا وہ جانتے بوجھتے ہوئے ہندوکمیونٹی کی آبادی میں اضافہ کے لیے ہندوؤں کے لیے ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے کے خیال کی حمایت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؟۔ اداریہ میں آگے کہا گیاہے کہ واقعی بھاگوت کے خیال ہندوتو کے اقدارپرلگے جالے کی طرح ہے۔اس کے بجائے، وہ یکساں سول کوڈ اور فیملی پلاننگ کے سخت قوانین کی حمایت کیوں نہیں کرتے؟۔حال ہی میں آگرہ میں منعقد ایک پروگرام کے دوران بھاگوت نے ایک سوال کے جواب میں کہا تھاکہ کون سا قانون کہتا ہے کہ ہندوؤں کی آبادی میں اضافہ نہیں ہونا چاہیے ؟۔ ایساکچھ نہیں ہے۔جب دوسرے لوگوں کی آبادی بڑھ رہی ہے تو ہندوؤں کوکس نے روکا ہے؟ یہ نظام سے جڑا ہوا مسئلہ نہیں ہے، ایسا اس لیے ہے کیونکہ سماجی ماحول ایسا ہے۔


Share: